نقادوں اور ماہرین نے پاکستانی ایٹمی پروگرام پر جرمن دستاویزی فلم کو مسترد کردیا

اسلام آباد:پاکستان میں نقادوں، ماہرین اور سیاست دانوں نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یوٹی پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزی فلم کو مسترد کردیا ہے اور اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیاہے۔دوسری جانب پاکستان کے لیے سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اس فلم کی حمایت کی ہے۔
اسلام آباد:پاکستان میں نقادوں، ماہرین اور سیاست دانوں نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یوٹی پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزی فلم کو مسترد کردیا ہے اور اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیاہے۔دوسری جانب پاکستان کے لیے سابق امریکی نمائندے  زلمے خلیل زاد نے اس فلم کی حمایت کی ہے۔ خلیل زاد کا کہناہے کہ اس فلم  سے پاکستان کے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران،بڑھتی ہوئی انتہاپسندی ا ور سول ملٹری تعلقات کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور یہ تمام عوامل پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔دستاویزی فلم اور خلیل زاد کی جانب سے اس کی انڈورسمنٹ پر پاکستانی تجزیہ کاروں اور ماہرین نے شدید تنقید کی ہے اور اسے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کی ڈین آف فیکلٹی ڈاکٹر رابعہ اخترکہتی ہیں کہ مذکورہ  بالافلم میں کسی ثبوت کے بغیر نتیجہ نکال لیاگیااورایڈٹ کرکے پاکستان کو اس میں فٹ کردیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں حقائق کے بجائے ادھر ادھر کی باتوں سے کام لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طورپیش کیا گیا جس نے غیرقانونی طورپر ایٹمی ہتھیار تیا ر کیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی این پی ٹی (نیوکلئیرنان پرولیفیریشن  ٹریٹی)کا رکن نہیں رہا  لہذا پاکستان کے خلاف الزام کی بھی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔انہوں نے فلم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ فلم میں پاکستان اور بھارت کے ایٹمی پرو گراموں کے ساتھ برابری کابرتاؤ نہیں کیاگیااور بھارت کے ایٹمی پروگرام کو  تو ایک سٹریٹیجک  حقیقت کہا گیا جبکہ پاکستان کے نیوکلئیرپروگرام کو دھوکے کا نتیجہ قرار دیاگیا۔فلم میں وہی گھسی پٹی بات کی گئی کہ پاکستان کے  ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گرد چرالیں گے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کاایٹمی پروگرام  ایک مرکزی کمانڈ سٹرکچر کے تحت ہے اور سیکیورٹی اور اثاثوں کی کئی تہیں ہیں جبکہ فلم میں ان باتوں کوجان بوجھ کر نظرانداز کیاگیا۔انہو ں نے دستاویزی فلم میں کشمیر اور اے کیوخان کیس کو استعمال کرنے کے حوالے سے کہا کہ تاریخی حقائق کو ایک مستقل فنامنا بنایاگیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ فلم میں بہت سارے ایشوز کو شامل کردیا گیا جیسے فوج کے کاروبار، توہین مذہب کے قوانین، عمران خان، افغان مہاجرین، غیرقانونی اسلحہ کی مارکیٹیں اور اقلیتوں پر حملے وغیرہ کیونکہ ان کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطرے سے کوئی تعلق نہیں یاپاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں۔انہوں نے ڈاکیومینٹری کے اس حصے کو مرکزی  فراڈ قراردیاجس میں چار ممیز ایشوز جیسے پاکستان کی ڈیموکریٹک گورننس،سول ملٹری عدم توازن، اندرونی سلامتی کے چیلنجز اورایٹمی کمانڈ اور کنٹرول کو آپس میں الجھایاگیااوراس کوایک واحد بیانیہ بنایا۔سینیٹر مشاہدحسین سید نے ڈاکومینٹری کو ذہنی بددیانتی قرار دیاجو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قانونیت اور  تحفظ پر سوال اٹھاتی  ہے اور یہ وہی پرانا گھساپٹا پروپیگنڈہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔انہوں نے کہا  کہ فلم یہ تو بتاتی ہے کہ پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں یٹمی دھماکے کرکے اپنے ایٹم بم کو دنیا کے  سامنے پیش کیا لیکن وہ یہ نہیں کہتی ہے کہ یہ دھماکے بھارتی ایٹمی دھماکوں کاجواب تھے۔وہی انڈیا جو جنوبی ایشیا میں نیوکلئیرایزیشن یا ایٹمی دوڑ کا خالق ہے۔کالم نگار سید طلعت حسین نے بھی ڈاکیومینٹری کی مذمت کی۔

فیس بک تبصرے

Facebook Comments Plugin Area