دہشت گرد دوبارہ منظم، حملے روزانہ کامعمول، پی آئی پی ایس کی رپورٹ
لاہور:پاکستان میں تشدد اور قتل وغارت اب ایک عام معمول بن چکے ہیں،پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیزکی ایک رپورٹ میں کہاگیاکہ سال دوہزار پچیس میں دہشتگردی کے لگ بھگ سات سو واقعات ہوئے جو دوہزار چوبیس میں کیے گئے حملوں کے مقابلے میں چونتیس فیصد زیادہ ہیں۔
لاہور:پاکستان میں تشدد اور قتل وغارت اب ایک عام معمول بن چکے ہیں،پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیزکی ایک رپورٹ میں کہاگیاکہ سال دوہزار پچیس میں دہشتگردی کے لگ بھگ سات سو واقعات ہوئے جو دوہزار چوبیس میں کیے گئے حملوں کے مقابلے میں چونتیس فیصد زیادہ ہیں۔رپورٹ ”پاکستان سیکیورٹی رپورٹ 2025“ کے نام سے جاری کی گئی۔ان حملوں میں ایک ہزار چونتیس افراد ہلاک اور 1366 افراد زخمی ہوئے۔مجموعی طورپر تنازعات سے جڑے پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسداد دہشت گردی آپریشن، سرحد جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں،ان واقعات کواب محض وقتی ناکامی نہیں قرا ر دیاجاسکتابلکہ یہ ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور جس پر قابو پانا مشکل ہوتاجارہا ہے۔ سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ دہشت گردی کاہدف کون بن رہا ہے۔ اب شہید ہونے والوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کا بڑا حصہ شامل ہے۔پولیس سٹیشن، سیکیورٹی قافلے اور چیک پوسٹوں پر بار بار حملے ہورہے ہیں جبکہ فوجی یونٹس بھی نشانہ بنے ہیں۔یوں لگتاہے کہ دہشت گرد اب مایوس ہونے کے بجائے دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔تشدد جغرافیائی طورپر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوزہے۔تقریباً تمام دہشت گردانہ حملے خیبرپختون خواہ اوربلوچستان میں ہوئے ہیں۔کے پی کے جنوبی اضلاع میں تویہ حملے معمول بن چکے ہیں۔











فیس بک تبصرے
Facebook Comments Plugin Area